
نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نیا ممبر ہونے کی وجہ سے شائد احادیث مبارکہ سیکشن میں مجھے اجازت نہیں ھے اسی لئے یہ حدیث یہاں پوسٹ کر رہا ہوں اسے حدیث سیکشن میں منتقل کر دیا جائے
شکریہ
والسلام
-------------------------------------------------------------------------
صحیح بخاری - مواقیت الصلوات
باب : نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں - حدیث نمبر : 555
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا مالك، عن أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهار، ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر، ثم يعرج الذين باتوا فيكم، فيسألهم وهو أعلم بهم كيف تركتم عبادي فيقولون تركناهم وهم يصلون، وأتيناهم وهم يصلون ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابوالزناد عبداللہ بن ذکوان سے ، انھوں نے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں ۔ اور فجر اور عصر کی نمازوں میں ( ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا ) اجتماع ہوتا ہے ۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے ، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا ۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انھیں چھوڑا تو وہ ( فجر کی ) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی
وہ ( عصر کی ) نماز پڑھ رہے تھے ۔